سماجی رہنما سعد ایدھی نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کے لیے امدادی مشن کے دوران انہیں اور ان کے ساتھیوں کو اسرائیلی فورسز نے چار روز تک شدید سردی میں تشدد اور ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعد ایدھی نے کہا کہ ان کا مشن مکمل طور پر پرامن اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھا، اور ان کا مقصد صرف غزہ کے مظلوم عوام تک خشک راشن، خوراک اور دیگر امدادی سامان پہنچانا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی سمندری حدود میں اسرائیلی فورسز نے انہیں غیرقانونی طور پر حراست میں لیا، جہاں چار روز تک نہ صرف جسمانی تشدد کیا گیا بلکہ ذہنی اذیت بھی دی گئی۔ سعد ایدھی کے مطابق تمام افراد کو ایک کنٹینر میں رکھا گیا تھا جہاں رات کے وقت شدید سردی ہوتی تھی، مگر اس کے باوجود نہ کمبل فراہم کیے گئے اور نہ ہی گرم کپڑے دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ہتھکڑیاں اس قدر سخت باندھی گئی تھیں کہ ان کا ایک ہاتھ اب تک سن ہے۔ سعد ایدھی کے مطابق 22 افراد کو صرف ڈیڑھ لیٹر پانی کی ایک بوتل دی گئی، جبکہ باقی وقت انہیں قیدیوں کے جہاز میں رکھا گیا۔
سعد ایدھی نے مزید بتایا کہ ترک حکومت نے ان کی واپسی کے لیے تین طیارے بھیجے، جن کے ذریعے انہیں اسرائیل سے ترکی منتقل کیا گیا، جہاں پاکستانی قونصل جنرل نے انہیں پاسپورٹ فراہم کیے۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ دوبارہ بھی غزہ جائیں گے اور انسانی خدمت کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
