وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وزارت قومی صحت کے امور پر اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں ہیپاٹائٹس، ایڈز اور پولیو جیسے موذی امراض کے خاتمے کے لیے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی قیمتی جان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہیپاٹائٹس اور ایڈز کی اسکریننگ یقینی بنائی جائے اور بروقت رپورٹنگ کے لیے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے مربوط نظام قائم کیا جائے۔
وزیراعظم نے وزارت صحت کو ہدایت دی کہ “وزیراعظم ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام” کے نفاذ میں تیزی لائی جائے، جبکہ وائرل امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک بھر میں آٹو ڈسیبل سرنج کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ڈریپ اور دیگر اداروں کو سرنج کے دوبارہ استعمال کے مکمل خاتمے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ ملک بھر میں ایڈز کے علاج کے لیے 98 اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی سینٹرز قائم کیے جا چکے ہیں، جن کی تعداد ایک سال میں 164 تک بڑھانے کا ہدف ہے۔ مزید بتایا گیا کہ بیرون ملک سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ایڈز اسکریننگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
بریفنگ کے مطابق قومی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس سی کا پائلٹ منصوبہ جلد اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں شروع کیا جائے گا، جبکہ حالیہ انسداد پولیو مہم میں 98 فیصد کوریج حاصل کی گئی اور ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
