عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے کہا ہے کہ کراچی میں لسانیت کو ہوا دینے کے بجائے مسائل کے حل پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اردو بولنے والے ہمارے بھائی ہیں اور ہر پارٹی، مسلک اور برادری میں اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں۔
شاہی سید نے کہا کہ کراچی میں سب سے زیادہ اورنگی ٹاؤن کے اردو بولنے والے شہری مسائل کا شکار ہیں جہاں 18، 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وہاں رہنے والے انسان نہیں ہیں؟
انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل حادثے کو اردو اسپیکنگ اور ڈمپر حادثے کو پٹھان سے جوڑنا درست نہیں، لسانیت کو ختم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈمپر حادثات میں جو بھی ذمہ دار ہو، اسے سزا دی جائے لیکن قومیت کی بنیاد پر نفرت نہ پھیلائی جائے۔
شاہی سید نے مزید کہا کہ کراچی کے عوام کو تقسیم کرنے کے بجائے شہر کے بنیادی مسائل حل کیے جائیں تاکہ شہری سکون کا سانس لے سکیں۔
ایک سوال کے جواب میں شاہی سید کا کہنا تھا کہ کراچی میں دو بندے تھے، ایک الطاف حسین اور دوسرا عزیر بلوچ، آج وہ دونوں کہاں ہیں؟ شاہی سید آج بھی یہیں ہے۔
