دبئی ائیرپورٹ پر آنے اور جانے والی پروازیں بتدریج بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
گزشتہ روز دبئی ائیرپورٹ کے قریب ڈرون حملے کے باعث پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھیں، تاہم اب دبئی آنے اور جانے والی پروازیں جزوی طور پر آپریشنل ہو رہی ہیں۔
دبئی ائیرپورٹ انتظامیہ نے مسافروں سے کہا ہے کہ پروازوں سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے اپنی متعلقہ ایئرلائنز سے رابطہ کریں۔
اطلاعات کے مطابق ڈرون حملے کے بعد پاکستان سے دبئی کی مزید 53 پروازیں متاثر ہوئیں، جبکہ آج پاکستان بھر سے دبئی سمیت مشرق وسطیٰ کی 100 پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔
دوسری جانب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، مسقط، شارجہ اور ابوظبی کی 150 پروازیں معمول کے مطابق آپریشنل ہیں۔
گل پلازا میں آگ کیا لگی، حکومت اور اداروں کی کارکردگی کی قلعی کھل کر سامنے آگئی۔ آگ نے جہاں اداروں کی غفلت عیاں کی وہیں حکومت کے جھوٹے دعوے بھی پانی میں بہہ گئے کے ایم سی ،فائر برگیڈ، ضلعی انتظامیہ ،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی،واٹرکارپوریشن سب کے سب اس آگ میں جھلس کر ننگے ہوگئے ،فائربرگیڈ حکام کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی وہ ادارہ ہے جو سب سے زیادہ بے نقاب ہوا،غیرقانونی تعمیرات ،غیرقانونی اپروول اور افسران کی رشوت ستانی سب کی سب سامنے آگئی
آگ لگنے کے بعد وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنائی تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے سب سے پہلے وہاں گل پلازا کی تمام دستاویزات ہونے کا دعوی کیا مگر جب جوڈیشل کمیشن کا معاملہ سامنے آیا تو ایسا ہولناک سچ سامنے آیا جس نے ہوش آڑادیا ۔ ڈی جی ایس بی سی اے مزمل ہالیپوتو کی منظوری کے بعد جمع رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایس بی سی اے کے ریکارڈ روم میں گل پلازا کی اصل ابتدائی فائلیں موجود نہیں ، یہ ایسا اعتراف جرم ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ایس بی سی اے میں کوئی بھی ریکارڈ موجود نہیں اس سے قبل لیاری میں جو بلڈنگ منہدم ہوئی تھی اس کے حوالے سے بھی سابق ڈی جی نے وزیراعلی سندھ کو غلط پلاٹ نبمر کے ساتھ جعلی دستاویزات جمع کرائی تھی ،
عدالتی کمیشن میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ اگست انیس سو انہتر میں کے ڈی اے نے ابتدائی اپروول پلان جاری کیا تھا، ایس بی سی اے کے پاس کسی قسم کا پرانا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے،جس کی وجہ سے یہ نہیں معلوم کہ ابتدائی طورپر کتنی منزلوں کی اجازت دی گئی تھی،انیس سو اٹھانوے میں بلڈنگ کا نظر ثانی پلان بیسمنٹ گراونڈ اور تین بالائی منزل کی اجازت دی گئی جس کے تحت ایک ہزار تیرالیس دکانیں پلان کا حصہ تھیں دوہزار تین میں ایمنسٹی اسکیم (خصوصی اجازت سندھ حکومت ) گل پلازا کی غیرقانونی تعمیرات کی اپروول دی گئی تھی رپورٹ کے مطابق گل پلازا کی عمارت میں فائر سیفٹی اور انخلا کےراستوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں،
ایس بی سی اے کے مطابق بائیس فروری دوہزات تین کی اپروول کے وقت گل پلازا کا آخری معائنہ کیا گیا تھا جس کے دوران کئی تعمیراتی خلاف ورزیاں سامنے آئیں تھیں مگر ایمنسٹی اسکیم کے تحت انکو اجازت دیدی گئی تھی ،حیرت انگیز طورپر رپورٹ میں بتایا گیا کہ انیس سو بانوے میں غیرقانونی تعمیرات پر گل پلازا کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس شوکاز نوٹس کے بعد کیا ایکشن نہیں لیا گیا،رپورٹ کے مطابق سیڑھیاں مختلف مقامات اور مسلسل کنفیگریشن کرکے بنائی تھیں،
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایس بی سی اے کی آگ سے بچاؤ کی اسٹرکچرل مزاحمت کا جائزہ لینا ادارے کی ذمہ داری نہیں عمارت میں کسی ممکنہ تبدیلی یا راستے بند ہونے سے متعلق وضاحت بلڈر اور بلڈنگ مینجمنٹ دیں گی ایس بی سی اے نے یہ بھی رپورٹ میں دعوی کیا کہ آگ سے بچاو کے اسٹریکچر کی ذمہ داری بھی ان پر عائد نہیں ہوتی جبکہ عمارت میں کسی ممکنہ تبدیلی یا راستے بند ہونے سے متعلق وضاحت بلڈر اور بلڈنگ مینجمنٹ دیں گے، جبکہ بلڈنگ کی تکمیل کے بعد کی ذمہ داری بھی بلڈر یا بلڈنگ انتطامیہ کی ہے رپورٹ میں سب اسٹینڈرڈ دکانوں کا بھی انکشاف کیا گیا ہے مگر ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ یہ انکی ذمہ دراری میں شامل نہیں۔ ایس بی سی اے کی رپورٹ نے کئی ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جو شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کو سپورٹ کرتی ہیں ۔