وزیراعظم میاں شہباز شریف سے ملاقات ایم کیو ایم پاکستان کے اس وقت گلے پڑ گئی جب وفد میں شامل فاروق ستار نے وزیراعظم سے سابق گورنر کامران خان ٹیسوری کو دوبارہ گورنر مقرر کرنے کی فرمائش کردی۔
ذرائع کے مطابق فاروق ستار کی اس فرمائش پر وزیراعظم نے کہا کہ کامران ٹیسوری کے دور میں گورنرہاوس میں ایسے ایسے کام جو بیان نہیں کئے جاسکتے کامران ٹیسوری نے جو کام کئے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں جس پر فاروق ستار نے کہا کیا آپ ہم سے وہ کام شیئر کریں گے تو وزیراعظم نے کہا کہ وہ کام اس قدر خطرناک ہیں کہ شیئر بھی نہیں کئے جاسکتے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کامران ٹیسوری کی برطرفی سے قبل ایم کیو ایم کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا گیا تھا اور نہال ہاشمی کے حوالے سے بھی ایم کیو ایم آگاہ کردیا گیا لہذا اس معاملے پر مزید گفتگو بےکارہے، پھر وفد کے ایک اور رکن جاوید حنیف نے وزیراعظم سے کم سے کم پانچ وزارتوں کا مطالبہ کیا جس پر وزیراعظم نے مزید گفتگو کے بجائے ان کو رانا ثناءﷲ سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔
بعد ازاں وزیراعظم نے از خود کراچی کے ترقیاتی کاموں اور فنڈز کے حوالے سے ایم کیو ایم وفد پر واضح کیا کہ کراچی کی ترقی کے لئے وفاق کوئی کوتاہی نہیں کرئے گا اور اپنے حصے کا کام بہ خوبی انجام دے گا۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے وفد کی گفتگو سے اندازہ ہورہا تھا کہ کراچی کے حوالے سے ان سے زیادہ وزیراعظم اور ان کے وفد کی تیاری ہے اور ایم کیو ایم وفد کی ترجیح میں کراچی نہیں بلکہ کامران ٹیسوری کی دوبارہ تقرری اور پانچ مزید وزارتیں تھی۔
