آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ انمول عرف پنکی کو ہیروئن بنا کر پیش نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنکی زیادہ تر لاہور میں رہتی تھی اور کراچی آتے ہی اسے بڑی مشکل سے گرفتار کیا گیا۔

آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ منشیات استعمال کرنے والوں میں بڑے بڑے معتبر نام سامنے آئے ہیں جبکہ انمول عرف پنکی کیس سے متعلق تمام اکاؤنٹس کو بھی منظر عام پر لایا جائے گا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کسی جانب سے انمول عرف پنکی کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی جاسکتی ہے۔

جاوید عالم اوڈھو نے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گھروں میں بچے اور بچیاں موجود ہیں، کوشش کی جائے کہ کوئی پنکی نہ بنے۔

ایک سوال کے جواب میں آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ انہیں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر تمغۂ امتیاز دیا گیا، تاہم وہ یہ اعزاز پوری سندھ پولیس فورس کے نام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اندرون سندھ کے کچے کے علاقوں میں آپریشن پولیس کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً ساڑھے چھ سو کلومیٹر پر محیط کچے کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا، جہاں اہلکاروں کو اپنی جانوں کے خطرات کا بھی سامنا رہا۔ آئی جی سندھ کے مطابق موٹر وے، نیشنل ہائی وے اور انڈس ہائی وے ڈاکوؤں سے سب سے زیادہ متاثر تھیں۔ جاوید عالم اوڈھو نے مزید کہا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران 41 خطرناک ڈاکو مارے گئے، 123 زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے جبکہ 300 سے زائد ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال کر سرینڈر کیا۔