اسپیشل رپورٹ :حفصہ راشد
رمضان مسلمانوں کا ایک ایسا تہوار ہے جس کے حوالے سے دنیا کے ہر خطے کی ایک الگ داستانیں مشہور ہیں ۔ برصغیر میں رمضان کے حوالے کئی منفرد رسوم رواج مشہور ہیں ۔ اجمیرشہر بھارت کا ایک مذہبی شہر مانا جاتاہے جہاں کئی منفرد رسمیں آج بھی قائم ہیں

راجستھان کے شہر اجمیر میں مقدس مہینہ رمضان کے دوران ادا کی جانے والی ایک منفرد اور صدیوں پرانی روایت آج بھی زندہ ہے۔ جیسے ہی رات کا اندھیرا گہرا ہوتا ہے اور پورا شہر گہری نیند میں ڈوبا ہوتا ہے، اسی وقت اچانک بڑی پیر پہاڑی کی سمت سے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ آواز کسی عام دھماکے کی نہیں بلکہ اس توپ کی ہوتی ہے جو روزہ داروں کو سحری کے لیے بیدار ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔ اس آواز کو سنتے ہی لوگ نیند سے بیدار ہوکرسحری کی تیاری میں لگ جاتے ہیں
اجمیر میں اس توپ کی آواز جدید دور میں بھی سحری کے لئے جاگنے کے لئے استعمال ہوتی ہے اجمیر کے لوگ آج بھی صدیوں پرانی اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور جدید الارم کے دور کے باوجود اجمیر کے باشندے توپ کی آوازسے جاگتے ہیں اور سحری کی تیاری کرتے ہیں
اس کی آواز شہر کے کئی علاقوں تک سنائی دیتی ہے اور لوگوں کے لیے ایک طرح کا الارم بن جاتی ہے کہ اب سحری کا وقت ہو گیا ہے۔

مزے کی بات یہ اس توپ کو کوئی مرد نہیں بلکہ ایک خاتون فوزیہ خان چلاتی ہیں ۔۔۔ جو پورے اجمیر ہی نہیں بلکہ پورے بھارت میں توپچی کے نام سے مشہور ہیں ۔فوزیہ خان بتاتی ہیں کہ رمضان کے پورے مہینے روزہ دار سورج نکلنے سے پہلے سحری کرتے ہیں اور پھر سورج غروب ہونے تک روزہ رکھتے ہیں۔ سحری کا وقت بہت محدود ہوتا ہے، اس لیے لوگوں کو جگانے کے لیے توپ چلانے کی روایت شروع کی گئی تھی۔فوزیہ خان آٹھ سال کی عمر سے توپ چلانے کا کام کررہی ہیں انکا کہنا ہے کہ یہ انکے خاندان کی روایت ہے اور مغلوں کے دور سے توپ سے سحر کی نوید سنانے کا سلسلہ شروع ہوا تھا رمضان میں سحری کے لئے جگانے کے علاوہ اجمیرمیں عرس کی رسومات کے شروع ہونے کا اعلان بھی توپ چلا کر کیا جاتاہے ۔
