تحریر: شاہ ولی اللہ جنیدی


پاکستان کی سیاست میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو محض تقرری یا برطرفی نہیں بلکہ ایک پورے سیاسی باب کے اختتام اور دوسرے باب کے آغاز کی علامت بن جاتے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی سمری صدرِ مملکت کو ارسال کردی ہے۔ اگر یہ تقرری حتمی شکل اختیار کر لیتی ہے تو اس کے ساتھ ہی موجودہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا دور بھی اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔
یہ تقرری محض ایک آئینی تبدیلی نہیں بلکہ گزشتہ چند برسوں میں سندھ کی گورنری کے کردار پر اٹھنے والے سوالات کا بھی ایک جواب سمجھی جا رہی ہے
سندھ کی گورنری ہمیشہ ایک باوقار آئینی عہدہ رہی ہے جس کا بنیادی کردار وفاق اور صوبے کے درمیان رابطہ قائم رکھنا ہوتا ہے۔ مگر گزشتہ چند برسوں میں ناقدین کے مطابق گورنر ہاؤس کا کردار ایک سنجیدہ آئینی مرکز کے بجائے ایک غیر سنجیدہ تشہیری پلیٹ فارم بنتا نظر آیا۔
گورنر ہاؤس میں آئی ٹی پروگراموں، مختلف تقریبات اور غیر روایتی سرگرمیوں نے توجہ تو حاصل کی، لیکن ان کے عملی نتائج اور ادارہ جاتی حیثیت پر سوالات بھی اٹھتے رہے۔ ہزاروں طلبہ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کورسز کرانے کے دعوے کیے گئے، مگر ان کورسز کی اسناد اور ان کے تعلیمی اداروں سے الحاق کے بارے میں ابہام برقرار رہا۔
سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا رہا کہ گورنر ہاؤس کو ایک سنجیدہ آئینی فورم کے بجائے عوامی تماشے کی صورت دی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھی اس طرزِ سیاست پر سخت تنقید کی۔
اب مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ رہنما نہال ہاشمی کو گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ دراصل وفاقی حکومت کا ایک سیاسی پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے۔ نہال ہاشمی طویل عرصے سے مسلم لیگ (ن) سے وابستہ رہے ہیں اور کراچی میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں ان کا کردار بھی رہا ہے۔
اگر وہ گورنر سندھ بنتے ہیں تو یہ نہ صرف مسلم لیگ (ن) کی سندھ میں سیاسی موجودگی کو مضبوط بنانے کی کوشش ہوگی بلکہ گورنر ہاؤس کو دوبارہ ایک روایتی آئینی کردار میں لانے کی بھی علامت بن سکتی ہے۔
اصل سوال اب یہ ہے کہ گورنری کے منصب سے رخصتی کے بعد کامران ٹیسوری کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟
ٹیسوری کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے اورایم کیو ایم کی سیاست ہمیشہ داخلی اختلافات اور قیادت کے تنازعات سے متاثر رہی ہے۔
ماضی میں جب قیادت کے مسئلے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے تو پارٹی کے سینئر رہنما فاروق ستار نے الگ راستہ اختیار کرلیا تھا۔ اس پس منظر میں یہ سوال اہم ہے کہ اگر ٹیسوری ایم کیو ایم کی قیادت کے طور پر خود کو پیش کرتے ہیں تو کیا پارٹی کارکنان اور قیادت انہیں قبول کریں گے؟
کراچی کی سیاست میں “قائد تحریک” کا لقب محض ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک تاریخی اور جذباتی علامت بھی رہا ہے۔ اس لیے کسی بھی نئے رہنما کے لیے اس مقام تک پہنچنا آسان نہیں۔
کامران ٹیسوری اگر ایم کیو ایم کے مرکزی کردار کے طور پر ابھرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں پارٹی کے اندر اعتماد پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ کراچی کے عوام میں اپنی سیاسی ساکھ بھی مضبوط کرنا ہوگی۔
ایک اور امکان یہ بھی ہے کہ ٹیسوری کو آئندہ سینیٹ کے انتخابات میں سامنے لایا جائے یا وہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں اہم کردار ادا کریں۔ پاکستان کی سیاست میں اکثر ایسا ہوتا رہا ہے کہ ایک آئینی منصب سے رخصتی کے بعد سیاستدان کو کسی دوسرے پلیٹ فارم پر متحرک کر دیا جاتا ہے۔
مگر یہ سب امکانات اس بات پر منحصر ہیں کہ ایم کیو ایم کی داخلی سیاست کس سمت جاتی ہے اور پارٹی کے کارکنان اور قیادت ٹیسوری کو کس حد تک قبول کرتے ہیں۔
گورنری کا باب شاید اب بند ہونے جا رہا ہے، مگر اصل کہانی اب شروع ہوگی۔
کیا کامران ٹیسوری ایم کیو ایم کی قیادت کے نئے دعویدار کے طور پر سامنے آئیں گے؟
کیا وہ سینیٹ کی سیاست کا رخ کریں گے؟
یا پھر کراچی کی سیاست میں ایک نئے کردار کے ساتھ واپس آئیں گے؟
یہ سوالات آنے والے مہینوں میں کراچی کی سیاست کا رخ متعین کریں گے۔ ایک بات البتہ طے ہے کہ سندھ کی گورنری کی تبدیلی صرف ایک تقرری نہیں بلکہ کراچی کی سیاست میں ایک نئی بحث کا آغاز ہے