ویب ڈیسک : شادی کرکے لوٹنے کے معاملات بھارت میں بڑھتے جارہے ہیں تاریخی شہر بھوپال میں اب ایک اسیا واقع سامنے آیا ہے جس نے پیچھلے تمام کیسزکو دھندلادیا ہے بھارتی میڈیا کے مطاب بھوپال میں پولیس نے 23 سالہ خاتون انورادھا پاسوان کو شادی کرکے لوٹنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے کہ خاتون مختلف ریاستوں میں 7 ماہ کے دوران 25 آدمیوں سے شادی کرکے انہیں لوٹ کر فرار ہوگئی تھی جس پر اسے ‘لوٹ اور اسکوٹ دلہن’ کا نام دیا گیا ہے بھوپال پولیس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت منظرعام پر آیا جب سوئی مادھوپور کے رہائشی وشنو شرما نے پولیس کو شکایت درج کروائی اور بتایا کہ ایجنٹ نے 2 لاکھ روپے لے کر 20 اپریل کو انورادھا سے کورٹ میرج کروائی اور وہ 2 مئی کو تمام قیمتی چیزیں لے کر فرار ہوگئی خاتون نے شادی کے لیے قانونی دستاویزات کا استعمال کیا، کچھ دنوں تک شوہر کے ساتھ رہی اور پھر رات کے وقت سونے کے زیورات، نقدی اور الیکٹرانک اشیاء چوری کرکے فرار ہوگئی جب کہ وشنو شرما سے شادی کرنے کے بعد خاتون نے بھوپال میں ایک اور آدمی سے بھی شادی کی رپورٹ کے مطابق انورادھا اس سے قبل اتر پردیش کے مہاراج گنج کے ایک اسپتال میں کام کرتی تھی اور اپنے شوہر کے ساتھ گھریلو جھگڑے کے بعد بھوپال چلی گئی جہاں وہ مبینہ طور پر ایک گروہ میں شامل ہوئی جو مقامی ایجنٹوں کے ذریعے کام کرتا تھا، یہ ایجنٹس واٹس ایپ پر دلہنوں کی تصویریں شیئر کرکے شادی کروانے پر کلائنٹس سے 2 سے 5 لاکھ روپے تک وصول کرتے تھے
ویب ڈیسک : اسرائیل نے جمعہ کی علی الصبح ایران میں ’جوہری اور فوجی اہداف‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ محمد باقری، پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی اور چھ جوہری سائنسدان مارے گئے ہیں اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے جواباً لگ بھگ 100 ڈرون داغے گئے جنھیں ہدف پر پہنچنے سے قبل روک لیا گی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیل نے اپنے لیے ’تلخ قسمت کا انتخاب کیا، جس کا سامنا اسے کرنا ہی پڑے گا اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران پر حملے ’آپریشن رائزنگ لائنز‘ کے تحت کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ ایران سے ’اسرائیل کے وجود کی بقا‘ کو خطرہ تھا اسرائیل کے حملوں کے بعد امریکہ کی جانب سے ردعمل کے خطرے کے پیش نظر ان حملوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران پر حملے میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں ہے اب تک کے حملوں میں نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام بلکہ اس کے فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا اسرائیل کا کہنا ہے کہ آپریشن ’رائزنگ لائن‘ کا ابھی صرف آغاز ہوا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل آنے والے دنوں میں مزید حملوں کی تیاری کر رہا ہے اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں 200 طیارے شامل تھے لیکن کچھ رپورٹس ایک ایسے خفیہ عنصر کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جو یوکرین کے روسی ایئر بیس پر حالیہ ڈرون حملے سے ملتا جلتا ہے ایرانی میڈیا کا کہنا ہےکہ اسرائیل نے حملوں کا نیا سلسلہ شروع کردیا ہے جس میں ایرانی شہر تبریز اور شیراز کو نشانہ بنایا گیا ہے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نےعالمی جوہری ادارےکے سربراہ رافیل گراسی کو خطل کھا جس میں آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کا ہنگامی اجلاس فوری طور پر طلب کرنےکا مطالبہ کیا خط میں کہا گیا ہےکہ عالمی جوہری ادارےکے بورڈ آف گورنرز نے اسرائیلی حملے سے چندگھنٹوں قبل ہی ایران کیخلاف قرار دادمنظورکی تھی، رافیل گراسی ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملےکی مذمت کریں، ایران اس جارحیت کا فیصلہ کن جواب دے گا ایرانی وزیرخارجہ نے اقوام متحدہ کو بھی خط لکھا جس میں انہوں نے اسرائیلی حملے کو اعلانِ جنگ قرار دیا۔ عالمی جوہری ادارے کا کہنا ہے کہ ایران کی صورتحال پرگہری نظر رکھے ہوئے ہیں، نطنزجوہری تنصیب پراسرائیلی حملے سے معلق ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں آئی اے ای اے نے تصدیق کی ہےکہ نطنز سائٹ پر تابکاری کی سطح میں کسی قسم کے اضافے کا مشاہدہ نہیں کیا گیا اور حملے میں ایٹمی تنصیبات کو نقصان نہیں پہنچا ہے ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف نے اسرائیلی حملوں پر کہا کہ دہشتگردحکومت نےکئی سرخ لکیریں عبورکی ہیں، اب جوابی حملےکی کوئی حدود نہیں ہوگی۔ا سرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہےکہ ایران سے داغے گئےتمام ڈرون مار گرائے ہیں اسرائیل کے ایران پر حملوں کے حوالے سےسکیورٹی ذرائع اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’اسرائیلی حملے سے قبل‘ دھماکہ خیز ڈرون ایران سمگل کیے گئے تھے خیال کیا جاتا ہے کہ ان ڈرونز کو زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل لانچرز پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کی صورت میں اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ لیکن ایران نے آج ابھی تک جو ڈرون لانچ کیے ہیں وہ زیادہ تر علامتی لگتے ہیں: یہ تہران کے اسرائیل پر گذشتہ برس اکتوبر میں کیے گئے بڑے بیلسٹک میزائل حملے سے بہت کم ردعمل ہے