ایم کیو ایم کواس وقت شدید شرمندگی اور خفت کا سامنا کرنا پڑا جب وزیراعظم میاں شہباز شریف سے ملاقات کرنے والے ایم کیو ایم کے وفد میں شامل فاروق ستار اور خالد مقبول نے سندھ کے گورنر کا عہدہ کا مطالبہ دہرایا جس پر وزیراعظم نے کہا کہ خالد صاحب آپ سے مشورہ کرکے کامران ٹیسوری کو ہٹایا گیا ہے کراچی کے دورے کے دوران بھی آپ کو بتایا تھا اور آپ سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران بھی اعتماد میں لیا تھا۔
اب مسلسل اس مطالبے کو دہرانا نامناسب ہے جس پر فاروق ستار نے کہا کہ کم از کم گورنر کے مطالبہ کا جائزہ لینے کا ہی بیان دے دیں۔
جس پر وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا پیپلزپارٹی سے معاہدہ ہے کہ گورنر مسلم لیگ نون کا ہوگا لہذا یہ باب بند ہوچکا ہے اس پر مزید گفتگو کارآمد نہیں ہوگی۔
