کراچی کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے واش روم میں مبینہ طور پر بچے کی پیدائش کے واقعے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
ترجمان اسپتال انتظامیہ ڈاکٹر وقاص کے مطابق کمیٹی میں دو سینئر پروفیسرز، ایک ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایک جوائنٹ ڈائریکٹر اور ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر شامل ہیں۔ پروفیسر حلیمہ یاسمین کو کمیٹی کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے جبکہ پروفیسر عبدالرب بھٹو اور ڈاکٹر صدام صالح بھی اس کے ارکان میں شامل ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ کمیٹی واقعے کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گی اور پیر کے روز اپنی رپورٹ اسپتال انتظامیہ کو پیش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے دوران اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کا معائنہ کیا جائے گا، جبکہ گائنی وارڈ اور ایمرجنسی میں تعینات ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں گے۔
ڈاکٹر وقاص کے مطابق انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ آیا واقعے میں اسپتال عملے کی غفلت شامل تھی یا متاثرہ خاندان کے دعوؤں میں کوئی تضاد پایا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی بھی سطح پر غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جناح اسپتال کے ڈاکٹرز کی جانب سے لاپرواہی برتنے پر خاتون نے بچے کو واش روم میں جنم دیا جس کے بعد شہریوں نے خاصی تنقید کی تھی، تاہم اسپتال انتظامیہ نے تردید کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ماں اور بچے کا بھرپور خیال رکھا گیا اور بچہ کی پیدائش واش روم میں نہیں بلکہ لیبر روم میں ہوئی تھی۔
