بجٹ اجلاس کی روداد
بجٹ سے قبل وزیراعظم پاکستان سے مایوس کن ملاقات کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے تک ایم کیو ایم پاکستان کے چار مرتبہ توسیع لینے والے چیئرمین خالد مقبول نے فاروق ستار کو بتایا کہ اس ملاقات میں ہمارے کسی ایک بھی مطالبہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا خصوصاً کامران ٹیسوری کی دوبارہ گورنر تقرری کے معاملے پر وزیراعظم کے سخت رویہ سبکی کے مترادف ہے جس کا دو ٹوک جواب بجٹ اجلاس میں ٹھونک کر دیں گے لہذا ایم کیو ایم کے صرف ہم خیال اراکین قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس خالد مقبول صدیقی کے چیمبر میں طلب کرلیا گیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے چار مرتبہ توسیع لینے چیئرمین خالد مقبول کا کامران ٹیسوری کے حوالے سے سخت موقف سن فاروق ستار کا دل خوشی سے چھلانگیں مارنے لگا اور انہوں نے اجلاس طلبی کا پیغام صرف ہم خیال اراکین قومی اسمبلی تک پہنچا دیا، منٹوں میں اجلاس ہوا جس کی صدارت خالد مقبول صدیقی نے کی اور تمام اراکین کو فیصلہ صادر کیا کہ ایم کیو ایم بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے واک آوٹ کرئے گی جب تک کامران ٹیسوری کو دوبارہ گورنر نہیں بنایا جاتا، فیصلہ کے بعد فاروق ستار خصوصاً سینہ چوڑا کرکے اسمبلی ہال میں اپنی نشستوں پر پہنچ گئے (اس سے پہلے وہ خالد مقبول کے فیصلے کی خوشخبری کامران ٹیسوری کو بذریعہ فون دے چکے تھے) ان اراکین کو بھی خالد مقبول کے فیصلہ سے آگاہ کیا جن کو خالد مقبول کے چیمبر میں ہونے والے ہم خیال اراکین پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے دور رکھا گیا تھا جس پر ان ارکان نے کہا کہ خالد مقبول ہمیں حکم دیں ہم بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کردیں گے۔
سب اراکین نے خالد مقبول کی جانب دیکھا تو خالد مقبول نے ادھر اُدھر دیکھنا شروع کردیا اور کہا اجلاس کا بائیکاٹ کرنا مناسب نہیں پھر کسی اور وقت کریں آج ہی تو وزیراعظم سے خوشگوار ملاقات ہوئی ہے۔
خالد مقبول صدیقی کی قلابازی ہم خیال اراکین اسمبلی خصوصاً فاروق ستار ان کے گروپ کے اراکین پارلیمنٹ پر بم بن کر گری اور فاروق ستار کو شدید دھچکا لگا خالد مقبول کے اچانک پینترا بدلنے پر ان کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا اور انہوں انتہائی تلخ لہجے میں خالد مقبول سے کہا خالد بھائی اتنا بڑا دھوکا ابھی تو آپ نے میٹنگ میں بجٹ اجلاس کا کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اب اچانک بدل گئے اگر فیصلہ بدلا تھا تو کم از کم آگاہ تو کردیتے تو خالد مقبول نے کہا اپنے چیئرمین بھروسہ رکھیں تو فاروق ستار نے مخصوص لہجے میں کہا کیا خاک بھروسہ رکھیں آپ نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔
عینی شاہدین کے مطابق فاروق ستار گروپ کے ایم این اے عبدالوسیم غصے سے لال پیلے ہوگئے اور ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ خالد مقبول کا گریبان پکڑلیں، خالد مقبول صدیقی کی ان قلابازیوں کے بعد فاروق ستار اور ان کے گروپ کے اراکین پارلیمنٹ نے حیدرآباد میں ہونے والے اے پی ایم ایس او کے یوم تاسیس اور کراچی پر بیچ لگژری ہوٹل میں ڈائیلاگ کابھی بائیکاٹ کیا۔
