چٹان اسپیشل:
مکار دشمن ہمیشہ کسی نہ سازش میں لگا رہتاہے ۔ یہ حال پاکستان کے پڑوسی دشمن ملک بھارت کا ہے جومسلسل ناکامیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بننےمیں لگا ہواہے۔انڈین حکومت کے براہ راست افغانستان کی طالبان حکومت کے متعدد رہنماوں سے رابطوں کا انکشاف ہواہے جس میں پاکستان کے خلاف سازشوں کے حوالے سے بات چیت کا بھی معاملے سامنے آیا ہے ۔ غیر ملکی میڈیا اور افغان حکومت کے ذرائع انڈین حکومت کے طالبان رہنماوں سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہیں ایک ایسے وقت میں جب انڈیا کو پہلگام واقع کے بعد پاکستان پر حملہ کرنے کی غلطی پر تاریخ کی بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا ۔ ایسے میں افغانستان رابطوں سے ظاہر ہوتاہے کہ مودی سرکار پاکستان کے خلاف سازشوں سے باز آنے کو تیار نہیں ۔ پہلگام واقع کے بعد جس طرح پاکستان افواج نے بھارت کے حملوں کو ناکام بنایا اور بعدازاں حق دفاع کے تحت جواب دینا شروع کیا تو بھارت چند گھنٹوں میں ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا اور امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کے بعد دونوں ملک سیز فائرپر آمادہ ہوئے ۔۔ مگر لگتاہے کہ بھارت کی جانب سے سازشوں کا جال پھر سے تیار کیا جارہے ۔۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق افغانستان طالبان حکومت کے نائب وزیر داخلہ ابراہیم صدر نے پاکستان اور انڈیا کے ایک دوسرے پر حملوں اور کشیدگی کے عروج کے دوران خفیہ طور پرانڈیا کا سفر کیا نائب وزیر داخلہ افغانستان کی پاکستان کے حوالے سے پالیسی یا دنیا جانتی ہے ابراہیم صدر کو طالبان رہنما ملا ہبت اللہ کے قریب سمجھا جاتا ہے اور انھیں طالبان حکومت کے اہم اور سٹریٹیجک سکیورٹی کے امور سے متعلق فیصلہ سازی میں اہمیت دی جاتی ہے۔

انڈین میڈیا نے اس دورے کو اہم قرار دیا ہے کیونکہ طالبان کے ایک سینیئر اہلکار ایک ایسے وقت میں انڈین حکام سے بات چیت کے لیے انڈیا کا دورہ کر رہے تھے جب 22 اپریل کو پہلگام پر حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی ۔ اس حوالے سے ایک انڈین اخبار نے لکھا ہے کہ طالبان کے ایک ایسے سینئر عہدیدار کے ساتھ ’خفیہ مواصلاتی چینل‘ کھولنا جو پاکستان کے بارے میں تنقیدی نظریات رکھتے ہیں‘ ظاہر کرتا ہے کہ انڈیا افغانستان میں نئی حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے اپنے نقطہ نظر پر نظرِثانی کر رہا ہے۔ ایک اور پیش رفت میں انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے گذشتہ روز جمعرات، 15 مئی کو طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر بات کی۔ انھوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر لکھا کہ: ’میری آج شام افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کے ساتھ اچھی بات چیت ہوئی۔ پہلگام میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت پر میں ان کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں براہیم صدر طالبان کے سرکردہ کمانڈروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے غیر ملکی افواج اور سابق افغان حکومت کے خلاف برسوں کی جنگ کے دوران نام نہاد ‘ہلمند کونسل’ کی قیادت کی تھی۔ ابراہیم صدرامریکی پاپندی کے شکار افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ براہیم صدر ایک سخت گیر فوجی کمانڈر ہیں جنھوں نے مئی 2021 میں جنوبی ہلمند صوبے میں طالبان کی جانب سے لڑائی کی قیادت کی۔ سنہ 90 کی دہائی میں وہ طالبان دور میں نائب وزیرِ دفاع رہے بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق اکتوبر 2018 میں امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی ایسٹ کنٹرول (او ایف اے سی) نے ابراہیم صدر کو خودکش حملوں اور دیگر خطرناک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک فہرست میں ڈال دیا تھا۔ ان پر ایران کی مدد سے یہ سب کام کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا سنہ 2018 میں ایرانی حکام نے ابراہیم کو مالی امداد اور انفرادی ٹریننگ دی تاکہ اس کی ایران سے وابستگی ثابت نہ ہو سکتے جبکہ ایرانی ٹرینرز طالبان میں ٹیکٹیکل اور جنگی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوشش کرنا چاہتے تھے اس سے قبل چار ماہ قبل جنوری 2025 میں طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں انڈین نائب وزیر خارجہ وکرم مصری سے ملاقات کی تھی انڈیا نے اپنے رواں مالی سال کے بجٹ میں افغانستان کے لیے امداد کو بڑھا کر 100 کروڑ روپے کر دیا ہے یہ بھی یاد رکھا جائے کہ پاکستان کے کچھ عرصے سے افغانستان سے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے ۔

