تفریح انسان کی فطری ضرورت ہے۔ روزمرہ کی مصروفیات، کام کا دباؤ، اور زندگی کی ذمہ داریاں جب انسان کو تھکا دیتی ہیں تو وہ ذہنی سکون اور تازگی کے لیے کسی خوشگوار سرگرمی کی طرف راغب ہوتا ہے۔ یہی سرگرمی "تفریح” کہلاتی ہے۔

تفریح صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ انسان کی ذہنی و جسمانی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔ مناسب تفریح انسان کو نیا جوش و جذبہ دیتی ہے، تھکن دور کرتی ہے اور زندگی کو دلچسپ بناتی ہے۔

تفریح کی بہت سی اقسام ہیں۔ کوئی کھیل کود سے لطف اندوز ہوتا ہے، کوئی موسیقی سنتا ہے، تو کوئی کتابوں کی دنیا میں کھو جاتا ہے۔ کچھ لوگ سیر و تفریح، فلمیں دیکھنے، یا دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جدید دور میں انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اور ویڈیو گیمز نے تفریح کے انداز بدل دیے ہیں، لیکن مقصد وہی ہے: دل کو خوشی دینا اور ذہن کو ہلکا کرنا۔

البتہ، تفریح میں اعتدال اور توازن بہت ضروری ہے۔ ایسی سرگرمیاں جو وقت کا ضیاع ہوں، یا انسان کو اخلاقی طور پر کمزور کریں، وہ نقصان دہ ہیں۔ اسلام بھی ایسی تفریح کی اجازت دیتا ہے جو حلال ہو، جس میں وقت کی قدر ہو اور جو جسم و روح کو سکون دے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی بعض اوقات صحابہؓ کو خوش کرنے کے لیے دلچسپ باتیں کیں اور بچوں کے ساتھ کھیل کھیلا۔

آخر میں، تفریح زندگی کی خوبصورتی ہے، بشرطیکہ وہ صحت مند اور مثبت انداز میں کی جائے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایسی تفریحی سرگرمیوں کو اپنائیں جو نہ صرف ہمیں خوشی دیں بلکہ ہماری شخصیت کو بھی نکھاریں۔

اگر آپ چاہیں تو میں اس مضمون کو کسی خاص قسم کی تفریح جیسے "ڈیجیٹل انٹرٹینمنٹ” یا "اسلام میں تفریح” پر مرکوز بھی کر سکتا ہوں۔