امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی نگرانی کے لیے تقریباً سات ممالک سے بات چیت کی گئی ہے۔
فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی کی پرواز کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے چین سے بھی پوچھا کہ کیا وہ اس اقدام میں شامل ہونا چاہتا ہے، اب دیکھا جائے گا کہ چین اس حوالے سے کیا فیصلہ کرتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ چین کے علاوہ کن ممالک سے اس معاملے پر بات چیت ہوئی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ نیٹو اور دیگر ممالک جو اس خطے کے راستے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرتے ہیں، انہیں بھی اپنے مفادات کے دفاع کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے ہم منصبوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر وہ اس معاملے میں مدد نہیں کرتے تو یہ بات یاد رکھی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض ممالک کے پاس بارودی سرنگیں رکھنے کی صلاحیت اور خاص قسم کی کشتیاں موجود ہیں جو اس حوالے سے مدد فراہم کر سکتی ہیں۔
