سینئر سیاستدان اور سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے اسرائیل کے سابق قومی سلامتی مشیر یاکوف امیڈرور کے ساتھ عرب ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے گریٹر اسرائیل منصوبے کا حصہ ہیں۔
اس پروگرام میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ پر بحث ہوئی۔ مشاہد حسین نے کہا کہ ایران کو جنگ میں برتری حاصل ہے اور یہ نیتن یاہو کی جنگ ہے جس میں انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کو بھی شامل کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے یہ تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ ایران چوتھے ہفتے تک اپنی پوری قوت کے ساتھ ڈٹا رہے گا اور آبنائے ہرمز کو اتنی کامیابی سے بند رکھے گا۔
مشاہد حسین نے مزید کہا کہ اسرائیل اور امریکا کا منصوبہ بری طرح ناکام ہوگیا ہے اور اب صدر ٹرمپ کو امن کے لیے بھیک مانگنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
پروگرام میں شریک یاکوف امیڈرور نے کہا کہ اسرائیل میں حالات معمول کے مطابق ہیں اور توقع سے کم انٹرسپٹر استعمال کیے گئے۔ اس پر مشاہد حسین نے سوال کیا کہ آئرن ڈوم کا کیا ہوا، جو ناقابلِ شکست کہا جاتا تھا۔ سابق اسرائیلی مشیر نے جواب دیا کہ آئرن ڈوم نے 90 فیصد حملے روکے، تاہم زیادہ تر حملے دراصل ایرو تھری نے روک
