صدر آصف علی زرداری نے ایران پر جاری اسرائیلی حملوں کے دوران سینئر ایرانی رہنما ڈاکٹر علی اردشیر لاریجانی کے قتل پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کی ہے۔
صدر نے نومبر 2025 میں ڈاکٹر لاریجانی کے پاکستان کے سرکاری دورے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر بات چیت کی اور پاکستان-ایران تعلقات میں مثبت پیش رفت میں ڈاکٹر لاریجانی کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے جاری کشیدگی کی وجہ سے انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش ظاہر کی، جس کے اثرات خطے میں معاشی عدم استحکام اور پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔
صدر نے فوری تحمل اور جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ مکالمے اور سفارتکاری کو ترجیح دیں اور امید ظاہر کی کہ حالات جلد مستحکم ہوں گے تاکہ مزید جانی نقصان اور کشیدگی کے پھیلاؤ سے قبل امن قائم ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے اپنی تمام کوششوں اور تعمیری سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔
