پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کو اپنا جواب جمع کروا دیا ہے، جس میں ہلاکتوں اور زخمیوں کے حوالے سے تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔
ڈاکٹر سمیہ کے مطابق گل پلازہ میں ہلاکتوں کی بنیادی وجہ آگ اور دھویں کے باعث دم گھٹنا تھی۔ مجموعی طور پر آٹھ زخمی افراد کو طبی امداد کے لیے لایا گیا جبکہ 73 لاشیں اور باقیات گل پلازہ سے حاصل کی گئی۔ ان میں سے 7 لاشیں مکمل تھیں اور 66 جلی ہوئی باقیات تھیں۔
ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم میں موت کی بنیادی وجہ دم گھٹنا پائی گئی اور بیشتر باقیات 100 فیصد جلی ہوئی تھیں، جس کی وجہ سے مکمل پوسٹ مارٹم ممکن نہیں ہو سکا۔ دستیاب شواہد کے مطابق امکان ہے کہ متاثرہ افراد آگ لگنے کے وقت زندہ تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مکمل لاشوں پر معمولی نوعیت کے زخم پائے گئے، جو بھگڈر، عمارت گرنے یا کسی بڑے حادثے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مرحلہ وار لاشیں نکلنے سے یہ نشاندہی ہوئی کہ متاثرین طویل وقت تک عمارت کے اندر پھنسے ہوئے تھے۔
زہریلی گیس یا کیمیکلز کی موجودگی جانچنے کے لیے نمونے حاصل کیے گئے ہیں تاہم ٹاکسیلوجی رپورٹس تاحال موصول نہیں ہوئیں۔ ڈاکٹر سمیہ نے کہا کہ تمام لاشوں کی میڈیکولیگل رپورٹس متعلقہ حکام کو فراہم کر دی گئی ہیں۔
