بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ خام تیل سے لدا پاکستان کا آئل ٹینکر ’کراچی‘ آبنائے ہرمز عبور کرکے پاکستان کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے زیرِ کنٹرول ٹینکر ’کراچی‘ نے اتوار کے روز ایران کے جزیرے لارک کے اطراف سے گزرتے ہوئے آبنائے ہرمز عبور کیا اور بعد ازاں عمان کے شہر صحار کے قریب سمندری حدود میں دیکھا گیا۔
بلوم برگ نے بتایا کہ پی این ایس سی اور وزارتِ پیٹرولیم نے اس حوالے سے فوری ردعمل نہیں دیا۔ آئل ٹینکر کراچی 2022 میں تیار کیا گیا تھا اور آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے خطرات سے بھرپور سفر طے کیا۔
واضح رہے کہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور ایل این جی کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔ ایران کی جانب سے امریکا اور اسرائیل پر حملوں کے ردعمل میں اس تنگ آبی گزرگاہ میں نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں امریکی اور اتحادی ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنائے گا، جبکہ دوست ممالک کے تجارتی جہازوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
اس کشیدگی اور جہازوں پر ممکنہ حملوں کے خوف کے باعث عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر ممالک نے اس تنگ آبی گزرگاہ پر بحالی کے لیے دباؤ ڈالا ہے، تاہم برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا اور جاپان نے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کسی فوجی معاونت سے گریز کیا ہے۔