
ویب ڈیسک :
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی کی اسرائیل حملے میں ہلاکت کے بعد پوری دنیا میں مسلمان سراپا احتجاج ہیں ۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی بھرپور احتجاج کیا گیا۔ اسلام آباد،کراچی اور لاہور میں امریکی سفارتخانے اور قونصلیٹ کو مظاہرین نے نشانہ بنایا۔ کراچی میں مظاہرین نے قونصلیٹ کے اندر گھس کر توڑ پھوڑ کی اور املاک کو نقصان پہنچایا ۔پاکستان میں احتجاج کے دوران فائرنگ سے کم از کم 23 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے کراچی میں سب سے زیادہ دس اموات رپورٹ کی گئی ہیں پُرتشدد مظاہروں میں ہلاکتوں کے بعد گلگت اور سکردو کے اضلاع میں آئندہ تین روز کے لیے کرفیو نافذ کرنے کے علاوہ فوج کو طلب کر لیا گیا ہے

حکومت پاکستان کی جانب سے ملک کے کئی شہروں میں دفعہ ایک سو چوالیس بھی نافذ کی گئی ہے جس کے تحت چار یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی لگائی گئی ہے جبکہ کراچی میں تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ پرتشدد جھڑپوں میں کراچی میں 10، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تین جبکہ سکردو اور گلگت میں پانچ، پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، پرتشدد مظاہروں میں پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو امریکی قونصل خانوں، سفارتخانے اور دیگر اہم مقامات سے دور رکھنے کے لیے آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور ہوائی فائرنگ کا استعمال کیاگیا، مشتعل مظاہرین نے گلگت میں اقوام متحدہ کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور انھیں نذر آتش کیا گیا۔
گلگت اور سکردو میں متعدد مقامات پر مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں جبکہ ڈی ایس پی سکردو اور متعدد پولیس اہلکاروں سمیت متعدد مظاہرین زخمی بھی ہوئے۔ سکردو میں ایس پی ہاؤس، سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر پر توڑ پھوڑ کی گئی جبکہ گلگت میں یو این ڈی پی اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور چند مقامات کو نذر آتش کیا گیا۔ کراچی میں علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد صوبائی دارالحکومت کراچی میں مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانے میں توڑ پھوڑ کی اوراملاک نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی۔
اس دوران پولیس کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کےمطابق آٹھ افراد کو مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا جبکہ دو افراد کی دوران علاج موت ہوئی۔ کراچی کے دو ہسپتالوں میں نو شدید زخمی افراد تاحال زیر علاج ہیں جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔ سندھ حکومت کے مطابق ان ہنگاموں میں مجموعی طور پر پولیس اہلکاروں سمیت 97 افراد زخمی بھی ہوئے۔ کراچی میں مظاہرین کی پولیس کے جھڑپیں نمائش، نیٹی جیٹی اور پاپوش کے علاقوں میں ہوئیں
کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر احتجاج کے دوران مظاہرین کو پولیس اور رینجرزنے قونصلیٹ کے قریب بحریہ کالج کےمقام پر روک کر احتجاج ریکارڈ کرانے کی پیشکش کی مگر مظاہرین نے انکارکردیا۔ اس دوران مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ سے پرچم اتارنے کا مطالبہ کیا جس پر انتظامیہ نے واضح طورپر کہا کہ انکے بس کی بات کی نہیں ۔ اسی طرح اسلام آباد میں سفارتخانے جانے کی کوشیش کرنے والے مظاہرین کو پولیس اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے روکا۔ مظاہرین سے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے مذاکرات اس دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لئے حکام کے مطابق اسلام آباد میں احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت اٹھارہ سے زائد افراد زخمی ہوئے

لاہور میں مظاہرے کے دوران مشتعل افرادنے امریکہ مخالف نعرے لگاتے ہوئے قونصلیٹ میں گھنسے کی کوشیش کی اور روکے جانے پر قونصلیٹ کے گیٹ کو آگ لگادی۔ مشتعل افراد کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کی اضافی نفری کوطلب کیا گیا
پشاور اور حیدرآباد میں بھی سید آیت اللہ خامنی ای کی شہادت پر احتجاج کیا گیا۔
