کراچی: میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے فیڈرل بی ایریا کے بلاک 13 اور 17 میں ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی عوام سے کیے گئے وعدوں کو وفا کرنے پر یقین رکھتی ہے اور کراچی میں ترقیاتی کام بلا امتیاز جاری رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے ساتوں اضلاع میں یکساں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں، تاکہ شہر کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جا سکے اور ٹریفک کی روانی میں بہتری آئے۔
میئر کراچی نے کہا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جو وعدے عوام سے کیے، ان پر عملدرآمد جاری ہے۔ “ہم نے فیڈرل بی ایریا کی عوام سے جو وعدہ کیا تھا، وہ پورا کر دیا۔ ماضی میں یہاں کی اندرونی گلیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں، لیکن اب ہم نے انہیں بہتر بنا دیا ہے۔”
مرتضیٰ وہاب نے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی 106 سڑکوں پر کام جاری ہے اور پچھلے 90 دنوں میں صرف فیڈرل بی ایریا میں ایک لاکھ 25 ہزار فٹ سڑک کی کارپیٹنگ کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ علاقوں میں پیور بلاک لگانا زیادہ مناسب تھا، جس کی وجہ سے ایک لاکھ 88 ہزار اسکوائر فٹ پیور بلاک بچھائے گئے۔ “اس علاقے میں ہم نے 10 کروڑ روپے خرچ کیے، تاکہ عوام کو بہترین سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔”
گورنر سندھ کامران ٹیسوری پر تنقید
میئر کراچی نے اپنے خطاب میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گورنر صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ کراچی کی ترقی کے لیے 100 ارب روپے فراہم کریں گے، لیکن نو روز گزرنے کے باوجود اب تک ایک روپیہ بھی اکاؤنٹ میں منتقل نہیں ہوا۔ “گورنر صاحب کہتے ہیں کہ وہ اپنے آئینی اختیارات استعمال کر کے سب کچھ کر دیں گے، لیکن حقیقت میں ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔”
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پیپلزپارٹی بلا تفریق کراچی کے تمام یوسی چیئرمین کو سہولتیں فراہم کر رہی ہے۔ “ہم بارہ لاکھ روپے ہر ماہ یوسی چیئرمین کو دے رہے ہیں، اور تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو شفاف طریقے سے چیزیں فراہم کر رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ جب پیپلزپارٹی نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کا انتظام سنبھالا تھا تو ایم کیو ایم کے میئر اور ڈپٹی میئر ہمیشہ اختیارات کی کمی کا رونا روتے تھے۔ “اب یہاں پیپلزپارٹی کا میئر اور ڈپٹی میئر ہے، اور ہم یہ ثابت کر رہے ہیں کہ نیت صاف ہو تو اختیارات اور وسائل کا رونا نہیں رونا پڑتا۔”
کراچی میں مزید ترقیاتی منصوبے
میئر کراچی نے مزید کہا کہ عید کے بعد شاہراہ بھٹو کو قائد آباد تک کھول دیا جائے گا، جبکہ 31 دسمبر تک اس شاہراہ کو کاٹھور تک مکمل کر دیا جائے گا۔ “یہ منصوبہ وفاقی حکومت نہیں بلکہ پیپلزپارٹی مکمل کر رہی ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ ملیر میں مرغی خانے کا نیا پل تعمیر کیا جا رہا ہے، جو آٹھ لین کا ہوگا۔ اسی طرح جام صادق پل کے اطراف بننے والے نئے پل کی تعمیر کا کام 31 مارچ تک مکمل کر لیا جائے گا۔ کورنگی کازوے پل پر بھی کام جاری ہے، جبکہ مینا بازار انڈر پاس کے کام میں سستی کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے، لیکن اب اس پر تیزی سے کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضیاء محی الدین کے نام سے ضلع شرقی میں انڈر پاس بنا دیا گیا ہے، جبکہ منور چورنگی پر بھی کام جاری ہے۔ بلوچ کالونی ایکسپریس وے پر بھی ترقیاتی کام ہو رہے ہیں۔
پانی کے مسائل اور حب کینال منصوبہ
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حب کینال پر بھی تیزی سے کام جاری ہے، اور نئی کینال کا افتتاح 14 اگست کو کیا جائے گا۔ “ہم اس شہر کے تمام مسائل کو جانتے ہیں اور انہیں حل کرنے کے لیے وسائل خرچ کر رہے ہیں۔ مسئلہ اختیارات یا وسائل کا نہیں، بلکہ نیت کا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ کراچی میں گیس کے مسائل بھی موجود ہیں اور ان کے حل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو متحد ہو کر یکسوئی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ “ہمیں عوام کو یقین دلانا ہوگا کہ کراچی کے لیڈران سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔”
گورنر سندھ کو عملی اقدامات کرنے کا مشورہ
میئر کراچی نے گورنر سندھ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیکے بانٹنے، شترمرغ کڑھائی، آئی فون تقسیم کرنے اور کھوکھلے وعدے کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ “اگر گورنر صاحب واقعی کراچی کی بہتری چاہتے ہیں تو وہ اپنی جماعت کی جانب سے کی گئی چائنہ کٹنگ کی زمینیں واپس دلوائیں۔”
انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ کا ذاتی طور پر احترام کرتے ہیں، لیکن جو وعدے کیے ہیں انہیں پورا کریں۔ “گلبرگ ٹاؤن میں پیپلزپارٹی نے کام کر کے دکھایا ہے، اب جماعت اسلامی والے بھی کام کرنا شروع کر دیں گے۔”
احتجاج، ٹریفک مسائل اور ریاستی رٹ
مرتضیٰ وہاب نے گزشتہ دنوں ہونے والے احتجاج اور اس سے پیدا ہونے والے ٹریفک مسائل پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست سے بڑھ کر کچھ نہیں، اور قانون پر عمل درآمد ضروری ہے۔ “ٹریفک پولیس کو مزید فعال ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو پریشانی نہ ہو۔”
انہوں نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے، لیکن بعض اوقات کیمروں میں مکمل کہانی نہیں دکھائی جاتی۔ “فوارہ چوک پر کیوں احتجاج ہوتا ہے، برنس گارڈن میں کیوں نہیں؟ اگر احتجاج گورنر ہاؤس کے اندر ہو، جہاں لاکھوں لوگ افطاری کرتے ہیں، تو شاید مسائل زیادہ جلدی حل ہو جائیں۔”
میئر کراچی نے کہا کہ پیپلزپارٹی ایک سیاسی جماعت ہے اور اپنی سیاسی حکمت عملی خود بناتی ہے۔ “کراچی کی روشنیوں، رنگوں، امنگوں اور امیدوں کو بحال کریں گے۔ یہ ہمارا شہر ہے، اور ہم اسے یکساں طور پر ترقی دیں گے۔”
نتیجہ
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی میں ترقی کا سفر جاری رہے گا اور پیپلزپارٹی عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر عوام کی بہتری کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ “کراچی کے عوام نے ہم پر اعتماد کیا ہے، اور ہم اس اعتماد پر پورا اتریں گے۔”

