ویب ڈیسک ۔۔
اسرائیل کے تازہ حملوں میں حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کے جاں بحق ہوگئے ہیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے نعیم قاسم کی شہادت کا اعلان کرتے ہوئے اسے آیت اللہ کی شہادت کے بعد بڑی فتح قراردیا گیا ہے ۔ بین القوامی میڈیا کے مطابق حزب اللہ کے امیر کو لبنان میں نشانہ بنایا گیا جہاں اسرائیل نے خفیہ آپریشن میں انکو نشانا بنایا ہے

رپورٹ کے مطابق ایران میں آیت اللہ کی شہادت کے بعد حزب اللہ کی جانب سے بھی اسرائیل پر حملوں کاآغاز کیا گیا تھا ۔ جس کے بعد اسرائیل کے خفیہ نیٹ ورک نے انکی تلاش کا کام شروع کیا تھا۔

چوہتر سالہ نعیم قاسم کو دوہزار چوبیس میں حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد حزب اللہ کا نیا سربراہ منتخب کیا گیا تھا ۔ شیخ نعیم قاسم گزشتہ بتیس برسوں سے حزب اللہ سے وابستہ تھے اور حسن نصراللہ کے نہایت قریب سمجھے جاتے تھے، عسکری مہمات کے حوالے سے انکا بڑا نام تھا۔ ایران کے کافی قریب سمجھے جاتے تھے
شیخ نعیم قاسم کا حزب اللہ کے سینئر اور تجربہ کار رہنما سمجھے جاتے تھے ، وہ جنوبی لبنان کے قصبے کفر فلا میں پیدا ہوئے اور لبنان یونیورسٹی سے کیمیا کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد طویل عرصے تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے، ساتھ ساتھ انہوں نے مذہبی تعلیم کے حصول کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور مسلمان طلبہ کے لیے یونین سازی کا بھی حصہ رہے ۔
انیس سو ستر میں وہ امام موسی صدر کی امل تحریک کا حصہ بنے شام لبنانی نوجوان کی سیاسی سوچ میں تبدیلی کا اہم محرک بننے والےانقلاب ایران کے بعد وہ انیس سو اناسی میں امل تحریک سے علیحدہ ہوگئے تھے اور انیس سو ۔۔بیاسی میں انہوں نے حزب اللہ میں شمولیت اختیار کرلی تھی
