ویب ڈیسک ۔
دنیا کی تاریخ کے بدترین مظالم کا شکار مظلوم فلسطینی بھوک اور پیاس سے بھی مرنے لگے ہیں ۔ اسرائیل کی جانب سے انسانیت سوز مظالم کے باوجود ۔۔ شیر دل فلسطینی کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ۔غزہ میں قحط کے صورتحال کے باعث مہنگائی آسمان سے چھونے لگی ۔۔ اور مہنگائی کا تصور اس بات سے کیا جاسکتاہے کہ غزہ میں پیاز اب کلو کے حساب سے نہیں بلکہ ٹکڑوں کے حساب سے مل رہی ہے۔ ایک پیاز کے چار ٹکڑے کرکے فلسطین میں فروخت کئے جارہے ہیں اور ایک ٹکڑے کی قیمت پاکستانی پندرہ سو روپے برابر ہے۔ غزہ میں دو ماہ سے کھانے پینے کی قلت ہے

اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے دنیا کے کسی بھی حصے سے امداد وہاں نہیں پہنچ رہی ہے عالمی اداروں کی جانب سے بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ غزہ کےمکین قحط سے مرنے لگے ہیں اور ایک رپورٹ کے مطابق بھوک اور غذائی قلت کی وجہ سے سینکڑوں افراد جن میں بچے بھی شامل ہیں جاں بحق ہوچکے ہیں ۔ مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ غزہ کے مکینوں نے کئی ماہ سے اپنے بچوں کو دودھ تک نہیں پلایا

