مصطفی عامر قتل کیس میں ہر روز نت نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں ۔ دوہزار پچیس کا سال شروع ہوا تو پورے پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں اس کیس کے چرچے ہونے لگے ۔ اغوا ،پولیس مقابلے اور قتل کے بعد کیس منشیات کے عالمی ڈیلرز تک پہنچ گیا۔ مصطفی عامر کےقتل کیس میں اب مرکزی ملزم ارمغان کے بعد اسکے والد کامران قریشی کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے کراچی میں اس کیس کی رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کے کبھی مشکل اور کبھی انٹریٹنمنٹ بننے والے کامران قریشی پر کراچی پولیس نے دو الگ الگ مقدمات درج کئے ہیں ۔غیرقانونی اسلحہ،پولیس مقابلے کے علاوہ کامران قریشی پر منشیات کا بھی مقدمہ درج کیا گیاہے،پولیس کے علاوہ اس کیس کی تحقیقات کا ایک رخ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے پاس بھی ہے ،ایف آئی اے منی لانڈرنگ،سائبرکرائم اور ڈارک ویب کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے تاہم اس کیس میں اہم ترین شواہد ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی پولیس کی جانب سے ایف آئی اے کو فراہم نہیں کئے گئے ہیں جن میں لیپ ٹاپ بھی شامل ہے ،ارمغان کے والد کامران قریشی کی گرفتاری کے بعدمعاملہ اسلحہ ڈیلرز تک بھی پہنچنے کا اندیشہ ہے کیونکہ بغیر لائسنس کسطرح کامران قریشی کو اسلحہ ڈیلرز کی جانب سے جدید اسلحہ فروخت کیا گیا یہ وہ ہی اسلحہ ہے جس سے کامران قریشی اور ارمغان کی جانب سے اس وقت پولیس پر فائرنگ کی گئی تھی جب پولیس افسران ارمغان کو گرفتار کرنے اس کے گھر گئی تھی ۔
اس کیس کے حوالے سے چٹان کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے جلد اہم انکشافات پر مبنی رپورٹ نشر کی جائیگی۔
ارمغان کی گرفتاری کے بعد سب سے اہم ترین معاملہ اسکا بیان ہے جو کہ اب تک پولیس کی جانب سے عدالت کوبھی فراہم نہیں کیا گیاہے ملزم ارمغان کے بیان کے بعد اس کیس کے حوالے سے اہم ترین معاملات سامنے آسکتے ہیں مگر اس بین القوامی شہرت کے کیس میں سب سے اہم ترین کڑی بلال ٹینشن کو سمجھا جاتاہے جو کہ تاحال پولیس کی گرفت سے آزادہے بلال ٹینشن کے حوالے سے کیس کے ملزم ارمغان کے علاوہ وعدہ معاف گواہ کی حثیت رکھنے والے مگر پولیس کیس میں ملزم بن جانے والے شیراز نے بھی اہم انکشاف کئے ہیں بلال ٹینشن کون ہے اور اسکا اس کیس سے کیا تعلق ہے اس بارے میں کیس کے ایک اور گرفتار ملزم ساحر حسن نے بھی اہم ترین انکشاف کئے ہیں بلال ٹینشن کے حوالے کئی اہم معلومات سامنے آئی ہیں جس میں سب سے اہم ترین معاملہ یہ ہے کہ بلال ،ملزم ساحر حسن اور ارمغان کی طرح منشیات (ویڈ) کا بڑا ڈیلر تھا۔کراچی میں چار بڑے ڈیلرسمجھے جاتے تھے جن میں سے ایک مصطفی عامر قتل ہوچکاہے جبکہ ارمغان اور ساحر گرفتارہیں جبکہ چوتھا اور اہم کردار بلال آزادہے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بلال کے حوالے سے تحقیقات اور اسکی گرفتاری کے لئے اقدمات کا سلسلہ جاری ہے